HIJAMA CLINIC   مركز الحجامة

 BLOOD CUPPING THERAY CENTER

HIJAMA IN URDU
 WRITER: ABU UMAR NAGDA 

الحجامة )پچھنا لگانا(

حمدللہ،اللہ سبحانہ وتعالیٰ کاشکرواحسان ہے جوہرچیزوحال کا مالک وخالق ہے اورہرچیز پراسی کا قبضہ وقدرت ہےاوراس نےہرچیزوحال کوبنایا اوراس طرح انسانوں کےاجسام کو مصورکیا اوران کے لئے رزق کا انتظام کیا اوراس نے ان کےاجسام کومختلف بیماریوں میں مبتلا کیا اورہر بیماری کی دوارکھی،اگرکوئی بیمارہوتا ہےتووہی شفاءدیتا ہے

اورجس نے مجھے توفیق دی حجامة سیکھنے کی اور اس کے ذریعے لوگوں کے علاج کرنے کی۔

اوردروداورسلامتی ہورسول اللہﷺ پرجورحمتہ للعالمین وخاتم النبین الامام الانبیاءوسیدالمرسلین ہیں اورجو انسانیت کے لئے شفیق بن کر آئےاورانسانیت کے لئے روحانی وجسمانی شفاءلےکر آئیں۔

اورسلامتی ہوآپﷺ کے ساتھیوں پراصحاب پراورجنہوں نےان کاراستہ اختیار کیا روز قیامت تک۔

اما بعد:

بےشک حجامة آپﷺکی عظیم وصیت ہے، آپ نے حجامة سےعلاج کرانےکی نصیحت کی اور بے شک حجامة کنزوخزانہ النبوی ﷺمیں سےہےاور یہ آپﷺ کےمعجزات میں سے ایک معجزہ ہے۔

حجامة لگوانا آپﷺ کی سنت ہےاورایک بہترین علاج بھی،رسول اللہﷺ نےخودحجامة لگوایا اوردوسروں کواس کےلگوانےکی ترغیب بھی دی اورآپﷺ صحت اورتندرستی کے لئے حجامةکو بہت پسندفرماتےتھے۔

یہ تحفہ معراج بھی ہے جب رسول اللہ ﷺ معراج پرتشریف لےگئے تھےتوفرشتوں نے ان سے عرض کیا کہ آپ ﷺ اپنی امت سے کہیں کہ وہ حجامة سے علاج کروائیں۔

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ معراج کی رات رسول اللہﷺ کا گزرفرشتوں کی جس جماعت پربھی ہواانہوں نےآپﷺ کوکہا کہ آپ حجامة کولازم پکڑلیں اور آپ ﷺ اپنی امت کو حجامة سےعلاج کاحکم فرمائیں (الترمذی۳۵۰۲،۴۵۰۲ )۔

حجامةکوئی نیاعلاج نہیں ہےبلکہ یہ ایک قدیم ومفیدعلاج ہے،آپﷺ کی بعثت سے بہت سالوں پہلے تقریبا دنیا کےہرکونے پرموجود تھا،اسکےکوئی مضراثرات(Side Effects) نہیں ہے کیونکہ یہ حدیث وسنت النبویﷺسے ثابت ہے۔ اورعرب میں حجامة لگانےکابہت رواج تھا اس کے ذریعے زائدو فاسدخون نکالاجاتاتھا۔عرب ملکوں،مڈل ایسٹ اورجنوب مشرقی ایشیا کے ملکوں جیسے:سوریا، قطر، سعودیہ،جاپان،ملائیشیائ،انڈونیشیا وغیرہ میں رائج ہے اور چین کا قومی علاج ہے وہاں پورے ملک میں اسی سےعلاج کیا جاتا ہےہاں مگرہرزبان میں انکے مختلف نام ہیں،یہ اب بھی امریکہ کینڈاا ور یورپ میں آلٹرنیٹومیڈیسن(Alter native Medicain)کےطورپرپڑھایا جاتا ہے۔ الحمد للہ اب پاکستان میں بھی ڈاکڑامجداحسن علی صاحب اورانکے شاگردوں کی محنت سے حجامةکوفروغ دیاجارہاہے اورالحمد للہ ہمارامقصدوہدف ہےکہ ہم سنت النبویﷺکے ذریعےانسانیت اورخاص طور پر مسلمانوں کاصحیح طورپرسستاوبہترین علاج کریں۔

حجامةHijama :

لغت میں اس کےمعنی پکڑنے کے ہیں پھریہ فاسدخون پکڑ کر جسم سے نکالنے کے معنی میں استعمال ہونے لگایعنی حجامة (پچھنا لگوانا) انسانی جسم میں سے فاسدخون کو نکالنا جو کہ بیماروں کا سبب ہوتا ہےاوریہ خون رگوں سے بھی نہیں نکلتا بلکہ جلد کے اطراف سے خون نکلتا ہے ۔

حجامةکے ذریعے فاسدوزائد خون نکلتا ہے جس سے وائرس،ٹاکسن،فیبرن،ڈیڈسیل ،مختلف قسم کے جراثیم ،اوردرد نکل جاتاہے اورخون کی گردش دوبارہ اپنی قدرتی حالت پرجاتی ہے، ہم جتنی کوششں کرلیں اس میں صحیحNormalخون نہیں نکلتا ہے اورحجامة لگوانےسےکمزوری بھی نہیں ہوتی ہے۔

طبی طورپرہمارے خون میں ٹوٹ پھوٹ ہوتی رہتی ہے خون کے خلیات (Cells)چند دنوں میں مردہ ہوجاتے ہیں اور جسم میں گردش کرتے رہتے ہیں ۔اگر جگر (Liver)اور گردے(Kidnes) صحیح کام کررہے ہوں تووہ اسکو جسم سے باہر نکال دیتے ہیں اور اگر فاسد خون حجامةکے ذریعے نکال دیا جائے تو جگر اور گردے پر اضافی بوجھ کم ہوجاتاہے اورجسم میں نیااورتازہ خون پیدا ہوتاہے جس کے ذریعے انسان بہت سی بیماریوں سےمحفوظ رہتا ہے،الحمد للہ اسکو لگوانے میں کوئی مضر اثرات(Side Effects)بھی نہیں ہے۔

تاریخ الحجامة : History of HIJAMA

حجامة مختلف قوموں میں ہزاروں سالوں سےمعروف رہا لوگ اس کے ذریعے بہت سی بیماریوں کا علاج کرتے تھے،حجامة کی مختلف تصویریں وعلامات قدیم مصریوں کے دربارمیں پائی جاتی تھیں وہ مختلف طریقوں سےعلاج حجامة کرتے تھے بعض لوگ سینگ کے ذریعے حجامة کرتے تھے اس کا نام علاج بالقرن(Horn Theropy) رکھا تھا اوررومی جرمنی اوریونانی لوگ شیشے کے گلاس کے ذریعے علاج کرتے تھے اورہندوستان کے لوگ جونک کے کیڑے کے ذریعے علاج کرتے تھے اور آج کل حجامة شیشوں (Glass Cups)وپلاسٹک(Plastic Cups) کے گلاس،ویکیم پمپ(Vacuum Pump)، الیکڑک پمپ(Electric Pump)،عام ہوائی پمپ(Manual Pump) اور جدید آلات کے ذریعے کیاجاتا ہے جوکہ صرف ایک باراستعمال (Disposiable Instrument)ہوتے ہیں۔

حجامة کی اقسامkindes of Hijama:

حجامة کی مختلف قسمیں ہیں

(۱) (الحجامة الجافة)ڈرائی خشک حجامة(Dry cupping):

اس حجامة میں جسم کےمختلف جگہوں پرجہاں درد ہو وہاں پر بغیر کسی کٹ کے حجامة کیا جاتا ہے۔

(۲) مساج الحجامة(Massag & Moving Cupping):

اس حجامة میں مریض کے جسم پرزیتون کا تیل لگا کر کپ کے ذریعے مختلف جگہوں پر بغیر کسی کٹ کے مساج کیا جاتا ہے۔

یہ دونوں قسموں میں کسی وقت یا دن کی کوئی قید نہیں ہے ،ان دونوں قسموں سے بیماریوں میں عارضی فائدہ پہنچاتا ہے یہ دونوں قسمیں سنت میں شامل نہیں ہیں۔

(۳)(الحجامةالدمویة)حجامة(Blood Cupping):

یہ سنت حجامة ہے جوکہ حدیث النبویﷺسے ثابت ہےاس حجامة میں جسم کےمختلف جگہوں وحصوں پر(جہاں ضرورت ہو)بلیڈ کےذریعے کٹ لگا کرفاسد خون نکالاجاتا ہے۔اس میں ہربیماری کا علاج ہے،یہ حجامة کسی ماہرتھراپسٹ، طبیب ،ومحتجم سےلگوانا چاہیے جس نے باقاعدہ اسکو سیکھا ہواوراسکی مشق کسی ماہراستاد کی زیرنگرانی کی ہو۔

ان قسموں کےعلاوہ آجکل اوربھی بہت سی حجامةکی صورتیں منظرعام ہورہی ہیں جن میں سے (ہربل) جڑی بوٹیوں کے ذریعے (Herbal Cupping)،شعاعوں ولیزر کے ذریعے( Falsh & Laser Cupping )،پانی وبخارات کے ذریعے(Water Cupping)،مقناطس کے ذریعے(Magnetic Cupping)،سوئی کے ذریعے(Needle Cupping(Accupuncture)وغیرہ۔

سنت حجامة کی دو قسمیں: (۱)العلاج:علاج کے لئے(۲)الوقایة:پرہیز کے لئے

پرہیز کے لئے: اس کوحجامة سنت کہتے ہیں اس کےافضل دن چاند کی17، 19اور 21 تاریخ ہے، احتیاط کے لئے صحت مند لوگ بھی کراسکتے ہیں کیونکہ اسلامی طب وصحت اور طب نبویﷺ کااگر بغورمطالعہ کیا جائےتومعلوم ہوتا ہے کہ ہرقدم پرانسان کو بیماری سےروکنے کی تدبیرکرنی چاہیئے نہ کہ انتظارمیں رہا جائے کہ جب انسان بیمار ہوگا تو پھرعلاج کرائیں گےکیونکہ احادیث میں آتا ہےکہ پرہیزعلاج سے بہتر ہے۔

علاج کے لئے: اس کوبھی حجامة سنت کہتے ہیں جس وقت مریض کواس کی ضرورت ہو،خواہ وہ ابتداءمہینہ ہویاآخرمہینہ ہواس سے نفع وفائدہ ہوگا۔ نقصان کاسوال ہی پیدا نہیں ہوتاہےعلاج کے موقع پراگرضرورت ہوتواس وقت ایمرجنسی کے طریقےاختیارکیے جائیں یعنی فوراحجامة لگوائیں۔ جیساکہ حضرت امام احمد بن حنبل رحمةاللہ سے ثابت ہے کہ انھوں نے وقت ودن کا لحاظ کیے بغیرحجامة لگوایا ضرورت کےوقت پر۔

حضرت امام احمد بن حنبل رحمةاللہ ہراس موقع پرجب خون میں جوش ہوحجامة کراتے تھے، ضرورت میں نہ وقت اورنہ ساعت کسی چیز کا لحاظ نہیں کیا جائے گا 

حدیث النبوی ﷺ کی روشنی میں:

(۱) حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما حضو رﷺ سےروایت کرتےہیں کہ آپﷺ نے فرمایا: شفاءتین چیزوں میں مضمر(یقینی) ہے۔(۱) حجامة کے ذریعے کٹ لگوانے میں۔(۲) شہد کے استعمال میں۔(۳) آگ سے داغنےمیں، تاہم میں اپنی امت کو آگ کے داغنے سے روکتا ہوں۔ (البخاری فی الطب:۱۷۸۵،ابن ماجہ:۱۹۴۳)

(۲) حضرت جابررضی اللہ تعالیٰ عنہ حضورﷺ سےروایت کرتے ہیں کہ آپﷺ نےفرمایا: کہ اگر تمہاری دواﺅں میں سےکسی دوامیں شفاموجود ہےتوحجامة کے ذریعے کٹ لگانےمیں ہے، یا شہد کےاستعمال میں، یا پھرآگ سےداغنےمیں (بشرطیکہ) یہ داغنا اس مرض کو راست آجائے، لیکن میں آگ سے داغنے کو پسند نہیں کرتا۔ (البخاری: ۳۸۷۵،مسلم)

(۳) حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہﷺنے فرمایا: سب سے بہترین دواجس سےتم علاج کرووہ حجامة لگوانا ہے۔ (البخاری:۶۹۶۵،مسلم:۷۷۵۱، أحمد:۳۷۰۱، المستدرک، البیھقی :۹۷۳۳)

ایک روایت میں ہےکہ حضوراقدسﷺ نےفرمایا:حجامة کروانا دواﺅں سےبہتر ہے تمہاری دواﺅں میں سب سے بہترین دوا(علاج )حجامة ہے۔(البخاری:۱۷۳۵، ومسلم۴۰۲۲،۶۰۲۲)

(۴) حضرت جابربن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے حضرت مقنع رضی اللہ عنہ کی عیادت کی اور فرمایا کہ جب تک تم حجامة نہ لگوالو،میں واپسی نہیں جاﺅں گا،اس لئے کہ میں نے نبی اکرمﷺ سےسناہےکہ حجامة لگوانےمیں شفا ہے۔ (البخاری:۸۹۶۵،مسلم،أحمد۳۵۳۳،البیھقی،الحاکم)

(۵) حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ رسول اللہﷺ نےمعراج کا واقعہ ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ(اس رات) فرشتوں کی جس جماعت پربھی گزرہوا انہوں نے آپﷺ کوکہا کہ آپ اپنی امت کوحجامة سےعلاج کا حکم فرمائیں۔(الترمذی :۳۵۰۲،الطبرانی، ابن ماجہ۹۷۴۳، البزار، مشکوٰةالمصابیح ج:۲)

(۶) حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما حضو رﷺ سےروایت کرتے ہیں کہ آپﷺ نےفرمایا: معراج کی رات جب بھی کسی گروہ پر گزرتا وہ گروہ کہتا اے محمد :حجامة لگانا ضروری جانو۔ (الترمذی :۴۵۰۲)

(۷) حضرت سمرة بن جند ب رضی اللہ عنہ فرماتےہیں کہ آپﷺکے پاس بنی فزارہ قبیلہ کا ایک دیہاتی آیا،اس وقت آپﷺ کو ایک حجام حجامة لگا رہا تھا، پس حجام نے بلیڈ سے کٹ لگایا تو دیہاتی نےتعجب سے پوچھا:اے اللہ کے رسول! یہ آپ کیا کررہے ہیں، آپﷺ نےارشاد فرمایا، یہ حجامة ہے: یہ ان سب علاجوں سے بہتر ہے،جو لوگ اختیار کرتے ہیں۔ (أحمد:۴۹۰۰۲، النسائی )

(۸) حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی کریمﷺ سےروایت کرتے ہیں کہ تم جن چیزوں سےعلاج کرتے ہوان میں سے کسی میں خیروبہتری ہےتو وہ حجامة لگوانا ہے۔(ابن ماجہ،أبوداﺅد:الطب ۶۷۴۳)

(۹) حضرت ابوکبشہ انماری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضوراکرمﷺ سرمبارک پراوردونوں کندھوں کےدرمیان حجامة لگوایا کرتے تھےاورفرماتے تھے جس شخص نے پچھنا کے ذریعے اپنا گنداخون نکلوادیا تواب اسے کوئی خدشہ نہیں،اس بات سےکہ وہ کسی بیماری کا کوئی علاج نہ کرائے۔ (ابن ماجہ،أبو داﺅد:۴۸۴۳)

یہ حدیث ایک بہت اہم نقطہ ثابت کرتی ہےکہ حجامة میں ہراس مرض کاعلاج ہے جس مرض کی دوا بھی تک دریافت نہیں کی جاسکی۔

(۱۰) حضر ت ابن عباس رضی اللہ عنہما سےروایت ہے کہ حضوراقدسﷺ نے ارشادفرمایا:اگر کوئی طریقہ علاج شفاءکا حامل ہے تو وہ صرف الحجامة ہے۔( الحاکم)

(۱۱) حضرت قتادہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نےارشاد فرمایا :اگر تم کسی مرض میں شفاءکے لئے کوئی عمل (علاج)کرانا چاہوتو وہ حجامة ہے۔

(۱۲) اسامہ بن شریک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسو ل اللہﷺ نےفرمایا:اے اللہ کے بندو! اپنی بیماریوں کاعلاج کراﺅ،کیونکہ اللہ تعالیٰ نےکوئی مرض ایسا پیدا نہیں کیا جس کا علاج نہ ہو صرف ایک مرض ایسا پیدا کیا ہے جس کا علاج نہیں ہے صرف ایک مرض یعنی مرض الموت ۔ (الترمذی، الحاکم )

ایک راویت میں کہ حضورﷺ نے فرمایا: بے شک تمہارے امراض کا بہترین علاج الحجامة ہے، مزید فرمایاکہ یہ وہ طریقہ علاج ہے جسے بہترین لوگوں نے ہمیشہ اپنا یا۔( الحاکم،والمستدرک)

(۱۳) حضرت أبوہریرة رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرمﷺنے فرمایا جب اللہ تعالیٰ نے کوئی بیماری پیدا فرمائی تو اُس کی شفاءاوردوا(یعنی علاج) بھی ساتھ نازل فرمائی۔(البخاری)

(۱۴) رسول اللہﷺ نےفرمایا کہ ہر بیماری کاعلاج موجو د ہے جب دوا کا استعمال بیماری کے مطابق کیا جاتا ہےتو حکم الہی کے طفیل شفاءہو جاتی ہے۔(مسلم)

ان احادیث یہ اہم نقطہ ثابت ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہربیمار ی کاعلاج رکھاہے کوئی بیمار ی لا علاج نہیں ہے لہذا ایسے کلمات کہنے سے گریز کریں کہ اسکاکوئی علاج نہیں ہے یا یہ لاعلاج ہے وغیرہ.

(۱۵) عبدالرحمن بن أبی انعم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں أبوہریرہ رضی اللہ عنہ کے پاس آیا تو وہ حجامة لگوارہے تھے مجھے دیکھ کرفرمانے لگےکہ أبوالحکم تم بھی حجامة لگوالو،میں نے کہاکہ میں نےحجامة نہیں لگوایا،اس پرأبوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ مجھے حضورﷺ نے یہ فرمایا کہ لوگوں کےطریقہ علاج میں حجامة لگوانا بہترین طریقہ علاج ہے۔(الحاکم)

(۱۶) حضور اقدسﷺ سے جب کسی شخص نے درد سرکی شکایت کی تو آپﷺ نے اُسے سر پرحجامة کرانے کا حکم فرمایا۔(أبوداﺅد)

(۱۷) امام مالک رحمةاللہ نے اپنی تصنیف” الموطاء “ میں لکھا ہےکہ:حضور اقدسﷺ نے یوں ارشاد فرمایا: اگر کوئی علاج ہے جومرض کو جڑ سےاکھاڑ پھینکے وہ الحجامة ہے۔( موطاءامام مالک)

(۱۸) حضوراکرمﷺنے فرمایا کہ حجامة کرانا تمام علاج معالجوں سے بہتر ہے جولوگ کرتے ہیں۔ (المستدرک)

(۱۹) حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺنے فرمایا: اگر تمہاری کسی بھی دوا(علاج) میں شفاءہے تو صرف الحجامة ہے۔( الحاکم)

(۰ ۲) حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہﷺ گلے کے دونوں طرف اورمونڈھوں کے درمیان حجامة لگایا کرتے تھے۔(أبو داﺅد:۰۴۸۳،الترمذی:۲۵۹۲)

حضرت امام احمد بن حنبل رحمةاللہ کو کسی مرض میں اس کی ضرورت محسوس ہوئی تو آپ نے اپنی گدی کے دونوں جانب حجامة کرایا۔

FOR BOOK CONTACT 03002433053 or VISIT  http://hijamaclinic.blogspot.com/p/urdu-artical.html